پیش رو

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آگے چلنے والا، وہ شخص جو پہلے گذر گیا ہو، مقدم، سابق، سالار، قائد (جس کی پیروی کی جائے)۔ "میرا زمانۂ حکومت گویا ایسا درخشاں تو نہ تھا جیسا میرے پیش روکا تھا، لیکن یہ ضرور ہے کہ میں بھی کسی سے دب کر نہیں رہا"      ( ١٩٣٢ء، مضامینِ فرحت، ١٥:٤ ) ٢ - آغاز، تمہید، ابتدا۔ "موجودہ کتاب ان کی تصنیفات موعود کا صرف پیش رو ہو گی"      ( ١٩٠٦ء، افادات مہدی، ١٣٠ ) ٣ - بڑھا چڑھا ہوا، بالاتر۔ "خروس، شہوت اور خودبینی میں ہر ایک مرغ کا پیش رو ہے"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات اردو، ٥٤٢ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ متعلق فعل 'پیش' کے ساتھ 'رفتن' مصدر سے صیغہ امر 'رَو' بطور لاحقۂ فاعلی ملنے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آگے چلنے والا، وہ شخص جو پہلے گذر گیا ہو، مقدم، سابق، سالار، قائد (جس کی پیروی کی جائے)۔ "میرا زمانۂ حکومت گویا ایسا درخشاں تو نہ تھا جیسا میرے پیش روکا تھا، لیکن یہ ضرور ہے کہ میں بھی کسی سے دب کر نہیں رہا"      ( ١٩٣٢ء، مضامینِ فرحت، ١٥:٤ ) ٢ - آغاز، تمہید، ابتدا۔ "موجودہ کتاب ان کی تصنیفات موعود کا صرف پیش رو ہو گی"      ( ١٩٠٦ء، افادات مہدی، ١٣٠ ) ٣ - بڑھا چڑھا ہوا، بالاتر۔ "خروس، شہوت اور خودبینی میں ہر ایک مرغ کا پیش رو ہے"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات اردو، ٥٤٢ )